حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکویؒ
از قلم: حضرت مولانا مفتی محمد انس قاسمی ، استاذ جامعہ ستاریہ فیض الرحیم نانکہ، گندیوڑہ
————————————————————
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں ”کم یاب “ ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر، اے ہم نَفَسو! وہ خواب ہیں ہم
(علی محمد شاد عظیم آبادی: 1846-1927ء)
عارف باللہ حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکویؒ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے فیض یافتہ ، ان کے محبوب اور خلیفۂ مجاز، مشہور دینی درس گاہ جامعہ ستاریہ فیض الرحیم نانکہ گندیوڑہ کے بانی و مہتمم، درجنوں مساجد، مکاتبِ دینیہ اور مدارسِ اسلامیہ کے سرپرست اور بانی ، اپنے علاقے کے مشہور بزرگ، ایک خدا ترس زاہد، صوفی اور ولیِ کامل، شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریاصاحب مہاجر مدنی ، فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب نوراللہ مرقدہ،حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہؒی صدر مفتی داراالعلوم دیوبندکے ہم عصر و ہم صحبت ، 14؍ شعبان المعظم 1327ھ مطابق 2؍ ستمبر 1909 ء کو ضلع سہارنپور کی ایک گم نام سی بستی ”ہرچند پور“ عرف ”ماجرہ“ (تحصیل روڑکی) میں پیدا ہوئے، آپ کے والدِ ماجد کا نام ”فہیم الدین “ ، دادا کا نام ”حسین بخش“ اور والدہ ماجدہ کا نام ”مریم“ تھا۔
باعتبار ِسلوک آپ کا سلسلہ دو یا تین واسطوں سےحضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے مل جاتا ہے۔
زمانۂ طفولیت:
آپ نے ایک دیہی اور پس ماندہ ماحول میں آنکھیں کھولی جہاں نہ تعلیم کا رواج تھا، نہ تربیت کی فکر، معاشرے میں بدعات و رسومات کی بھر مارتھی، آپ کی پیدائش نصف شعبان کو ہوئی تھی، گھروالوں نے اس کو نیک فال سمجھتے ہوئے آپ کا نام ”شبراتی“ رکھ دیا، جہالت اور پس ماندگی کے اس ماحول میں آپ کے لیے ترقی اور کامیابی کے کوئی آثار یا امکانات نہ تھے، مگر خداوندِ کائنات کو آپ کے لیے کچھ اور ہی منظور تھا، جس کے لیے اللہ تعالی نے قضا وقدر کے ہاتھوں آپ کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا، اور آپ کی راہ بری کی ذمے داری براہِ راست اپنے ہاتھوں میں لے لی۔
ابتدائی تعلیم:
چناں چہ ابھی آپ ڈھائی سال کی عمر کو پہنچے تھے کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، اور آپ اپنے دادا جان جناب حسین بخش کے زیرِ تربیت آگئے، لیکن پھر بھی آپ کے لیے ماحول سازگار نہ ہوسکا،سایۂ پدری سے محروم ہونے کے بعد دادا جان کی محبت اگرچہ آپ کے لیے ایک مضبوط سہارا تھی، لیکن دادا جان پہلے سے ہی دل کے مریض تھے، نتیجۃً ان کی عمر نے وفا نہ کی، اور وہ بھی جلد ہی چل بسے ، اس اضطراب اور بے چینی کے عالم میں آپ کی دینی یا دنیوی تعلیم کا بند و بست نہ ہوسکا، یہاں تک کہ دادا جان کے انتقال کے بعد آپ کی کفالت کی کی ذمے داری آپ کے نانا جان کے پاس آگئی، آپ کے نانا جان نے اپنی بساط کے مطابق آپ کی پرورش اور تربیت پر خوب توجہ دی، وہ آپ کو اپنے ساتھ گاؤں لے گئے، اور آپ کی ابتدائی تعلیم کی ذمے داری حافظ مشیت اللہ کے سپرد کی، جو محلے کی مسجد میں امام تھے، انہوں نے حضرت کو قاعدۂ بغدادی اور پارۂ عم ناظرہ مکمل کرایا، اس کے بعد آپ کے نانا جان نے ”بہڑہ سادات“ نامی گاؤں میں واقع ایک پرائمری اسکول میں آپ داخلہ کرادیا ، جہاں آپ اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے، کچھ عرصے بعد آپ کے ناناجان نے آپ کی والدہ کا دوسرا نکاح کرادیا، آپ کے دوسرے والد کا نام ”محمد حسن“ تھا، وہ زرگری کا کام کرتے تھے اور”چھاپور، شیر افگن پور“ کے رہنے والے تھے، چناں چہ اپنی والدہ کے ساتھ آپ بھی ”چھاپور “ منتقل ہوگئے، چھاپور میں کوئی تعلیمی ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو ”خوبن پور ، چولی“ کے ایک اسکول میں داخل کرادیا گیا، جہاں آپ نے چوتھی کلاس تک تعلیم حاصل کی ۔
تعلیمی انقطاع:
آپ کا تعلق جس علاقے سے تھا اول تو وہ علاقہ ہی دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے انتہائی پس ماندہ تھا، وہاں دینی یا دنیوی تعلیم کا نہ رواج تھا نہ نظام، غربت اور مفلسی کے ساتھ جہالت و بدعت اور بے شعوری ہر طرف چھائی ہوئی تھی، دوسرے یہ کہ آپ ابھی اپنی عمرِ مستعار کے دو یا ڈھائی سال ہی مکمل کرپائے تھے کہ والد ماجد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا، اور کچھ عرصے بعد آپ دادا جان کے سایۂ عاطفت سے بھی محروم ہوگئے، حالات کی رسّہ کشی کے باعث آپ کسی ایک جگہ مستقل طور پر ٹھہر نہ سکے، دادا جان کے بعد نانا جان نے آپ کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی لیکن اس کے چند مہینے بعد ہی آپ کو اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ ”چھاپور“ آنا پڑا، یوں آپ کا داخلہ نہ ایک مکتب میں رہ سکا نہ ہی کسی ایک متعین اسکول میں، والدہ ماجدہ کے ساتھ ”چھاپور“ آجانے کے بعدآپ نے چوتھی کلاس تک تعلیم مکمل کرلی، لیکن مکمل سرپرستی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی تعلیم یہی رک گئی ، اور آپ والدہ ماجدہ کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے، جہاں آپ گھر کے جانوروں کی دیکھ ریکھ اور ان کا چارے کا انتظام کرتے، اور جنگل سے گھاس اور درختوں کے پتے جمع کرکے لاتے۔
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی:
ربِّ کائنات جو کہ حکیم و علیم ہے اس کی شان انتہائی نرالی ہے، اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں، وہ ہر چیز کی مخفی صلاحیتوں اور اس کے آغاز و انجام کو ازل سے جانتا ہے، کسے خبر تھی کہ جانوروں کو یہ رکھوالا آگے چل کر راہِ حق سے ہٹے ہوئے اللہ کے بندوں کی رکھوالی کرے گا، اور بکریوں کے اس خادم کو اللہ رب العزت انسانیت اور دینِ حق کی خدمت کے لیے قبول فرمانے والے ہیں؛ ربِّ کائنات کو آپ سے جس طرح کا کام مطلوب تھا، اُس نے آپ کی اُسی طرح تربیت فرمائی، آپ کو متواضع، سادہ مزاج، مسکینوں غریبوں کا غم خوار، عزیمت پسند، دنیا کی محبت سے بیزار، لہو و لعب سے متنفر ، اپنی محبت کے رنگ میں رنگا ہوا، اور شوقِ حق میں ڈوبا ہوا اپنا ایک مخلص بندہ بنانے کے لیے آپ کو اسی طرح کی آزمائشوں کا خوگر بنایا، تاکہ دنیا کی بے ثباتی، اس کی بے وقعتی، محنت کی عادت ، ریاضت کا شوق، راہِ سلوک کی مشقتوں کو برداشت کرنے کا جذبہ شروع ہی سے آپ کی طبیعت بن جائے، چناں چہ اللہ رب العزت نے اس طرح یتیمانہ پرورش، روز مرّہ کے بدلتے ہوئے حالات میں آپ کو ریاضت و عزیمت کا عادی بنادیا ، اور پھر آپ کو اس راستے پر ڈال دیا جو جنابِ حقیقی تک لے جاتا تھا، جس کو صراطِ مستقیم بھی کہتے ہیں۔
شوق:
اب آپ شعور کی عمر کو پہنچ چکے تھے، سیاہ و سفید میں امتیاز کرنے کے ساتھ آپ گردو پیش کے احوال کو پرکھتے، زمین و آسمان کی تخلیق میں غور کرتے، اور خالقِ کائنات کوپہچاننے کی کوشش کرتے،بچپن کے یہ آخری دن رات اس طرح گذرتے گئے، حالات نے آپ کو باپ کی شفقت اور گھریلو نازو نعمت سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی ماحول سے بھی الگ کردیا تھا، لیکن شوق کی آگ دل میں سلگتی رہی، یہاں تک کہ جنگل کی خلوت، اور فطرت کے ایماء نے آپ کو خالقِ کائنات کا جویا بنادیا، چناں چہ مستقل آپ کی طبیعت اس کے لیے بے چین رہتی کہ کسی طرح میں کسی عالم کی خدمت میں رہ کر علمِ دین کی تکمیل کرسکوں، اور کسی اللہ کے ولی کی خدمت میں رہ کرقربِ حق حاصل کرسکوں:
جدائی شوق را روشن بصر کرد
جدائی شوق را جویندہ تر کرد
ایک مرتبہ جب آپ جانوروں کی خاطر چارہ جمع کرنے جنگل گئے ہوئے تھے، راستے میں دو لڑکوں سے آپ کی ملاقات ہوئی، آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کہاں جارہے ہیں، انہوں نے بتلایا کہ وہ رائے پور میں پڑھتے ہیں، اور قرآنِ کریم حفظ کررہے ہیں، آپ کے دل میں نہ جانے کب سے قرآنِ کریم حفظ کرنے کا ارمان سویا ہوا تھا، ان کی آہٹ نے اس کو جگادیا، آپ گھر آئے اور والدہ ماجدہ سے کہا : ”اما جان ! میں قرآنِ کریم حفظ کرنا چاہتا ہوں، میں حافظ بنوں گا“، محبوب بیٹے نے جس طرح ماں سے اپنی تمنا کا اظہار کیا وہ باوجود اپنے گھریلو حالات کے ناسازگار ہونے کے آپ روک نہ سکی ، اور آپ کو حفظِ کلام اللہ کے لیے مدرسے جانے کی اجازت دے دی، آپ نے قصبہ ”بہٹ“ کے ایک مدرسے میں داخلہ لے لیا، ذہانت و فطانت کی کمی نہ تھی، اور اس پر زہد و تقوی کی برکات چناں چہ آپ نے بہت جلد قرآنِ پاک حفظ کرلیا۔
فارسی کی تعلیم:
حفظ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ اپنی تعلیم آگے جاری رکھنا چاہتے تھے، جب کہ ”بہٹ“ میں مزید تعلیم کا کوئی نظم نہ تھا، چناں چہ آپ نے علمی پیاس بجھانے کی خاطر دہلی کے لیے رختِ سفر باندھ لیا، اور سفر کی اجازت لینے کے لیے والدہ ماجدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور دہلی جانے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن آپ کی والدہ آپ کو اتنی دور سفر پر بھیجنے کے لیے آمادہ نہ ہوئی، نتیجۃً آپ نے قریب میں ہی ”مدرسہ رکنیہ سکروڈہ“ میں داخلہ لےلیا، مدرسے میں آپ کے لیے طعام کا کوئی معقول نظم نہ تھا، عام طور پر وہاں مقامی طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے؛ اس لیے موقع پر جو بھی میسر آجاتا آپ اسی کو تناول فرمالیا کرتےتھے، یہ ان کی عادت تھی سختیاں جھیلتے، مصیبتیں برداشت کرتے، فاقے سے دن گذارتے، لیکن کسی سے سوال کرنا تو درکنار کبھی کسی سے اپنی بے کسی کا اظہار تک نہ فرماتے، اگر کبھی زیادہ بھوک ستاتی تو جنگل میں نکل جاتے جنگلی بیر اور دوسرے جنگلی پھل کھاکر گذر اوقات کرلیتے۔
رائے پور سے تعلق اور مولانا خدابخشؒ:
خدائے لم یزل نے آپ کو زہد و استغناء ، تواضع، انکساری، یکسوئی، فرماں برداری، نرم خوئی، نیک دلی، سادگی، محنت و لگن، شب بیداری، فرائض کا اہتمام، سنتوں کا شوق، نوافل کی پابندی، ذہانت و فطاوت، جیسی ان گنت خوبیاں عطا کی تھیں، آپ نے فارسی کی اکثر کتابیں حضرت مولانا خدابخشؒ سے پڑھی، اپنے انفرادی طرزِ زندگی، اور زاہدانہ طور و طریقے کی بدولت آپ اپنے استاذِ محترم مولانا خدا بخشؒ کےنزدیک ممتاز اور نزدیک تر ہوتے چلے گئے، وہ آپ کے ساتھ مخصوص مخلصانہ اور مشفقانہ رویّہ رکھتے تھے جو عام طلبہ سے جدا گانہ ہوتا تھا، مولانا خدا بخشؒ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے، رائے پور ان کا بکثرت آنا جانا تھا، مولانا خدا بخشؒ آپ کو اکثر حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے حالات و واقعات سناتے، جنہیں سن کرآپ کے دل میں حضرت شاہ عبدا لقادر رائے پوریؒ سے ملنے اور ان کی خدمت میں جانے کا اشتیاق پیدا ہوتا چلاگیا، مولانا خدا بخش ؒ کئیں مرتبہ آپ کو اپنے ساتھ جمعے کی نماز کے لیے رائے پور لے گئے، اس طرح آپ کو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کی خدمت میں حاضری کا موقعہ ہاتھ آگیا۔ یہ واقعات 1927ء کےبعد کے ہیں ۔
سکروڈہ سے رائے پورتک:
مولانا خدا بخشؒ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ([1]) کے مخصوص خدام میں سے تھے، ابھی آپ اپنے استاذ مولانا خدا بخشؒ کے پاس مدرسہ رکنیہ سکروڈہ میں ہی مقیم تھے، اور ان سے فارسی کی کتابیں پڑھتے تھے، کہ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے مولانا خدا بخشؒ کو اپنےپاس رائے پور بلالیا، استاذِ محترم سے آپ کا تعلق گہرا تھا، اس لیے وہ جاتے وقت آپ کو بھی اپنے ساتھ رائے پور لے گئے، اور اس طرح آپ کو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری کی خدمت میں مستقل حاضری کی سعادت ملنے لگی۔
بیعت اور نام کی تبدیلی:
اس وقت آپ کی عمر تقریبًا 20 سال رہی ہوگی، آپ اکثر حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی خدمت میں حاضر رہتے، مہمانوں کی خدمت کرتے، آپ کے ارشادات سنتے ، ایک روز بہت سے مہمان حاضرِ خدمت تھے،انہوں نےحضرت رائے پوری ؒ سے بیعت کی درخواست کی، جسے حضرت نے قبول فرمالیا، اور کچھ نصیحتیں کرنے کے بعد ان کو رخصت فرمادیا، ان کے جانے کے بعد آپ نے انتہائی عاجزی اور شدتِ طلب کے ساتھ حضرت رائے پوریؒ سے بیعت کی درخواست رکھی، حضرت رائے پوریؒ نے یہ کہ کر منع فرمادیا کہ ”ابھی آپ نو عمر ہیں“۔
شوق کی آگ آپ کے سینے میں جلتی رہی، آپ ہمیشہ موقع کی انتظار میں رہتے، چناں چہ ایک مرتبہ پھر آپ نے موقع دیکھ کر درخواست کی ، لیکن اس مرتبہ بھی حضرت رائے پوریؒ نے آپ کی درخواست قبول نہ کی، آپ کی طلب بالکل سچی تھی آپ نے تیسری مرتبہ پھر انتہائی اشتیاق کے ساتھ حضرت سے درخواست کی اس مرتبہ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے آپ کی درخواست منظور فرمالی، اور آپ کا نام ”شبراتی“ سے تبدیل کرکے ”عبدالستار“ تجویز کیا، بعد میں آپ اسی نام سے مشہور ہوئے۔
اس کے بعدآپ یہیں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی خدمت بندھ کر رہ گئے، دن رات اوراد و وظائف کی پابندی کرتے، اپنے مرشد کے ارشادات کی تکمیل کرتے ، آنے والے مہمانوں سے ملتے، ان کی خدمت کرتے، اس زمانے میں رائے پور سلوک وتصوف اور علومِ باطنہ کا مرکز تھا، ملک بھر کے علماء سِمٹ سِمٹ کر حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی خدمت میں آتے اور آپ سے اکتسابِ فیض کرکے لوٹ جاتے،آنے والوں میں شیخ الحدیث مولانا منظور نعمانیؒ، مولانا محمد الیاسؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ، امیرِتبلیغ حاجی عبدالوہابؒ، امیرِ شریعت حضرت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ جیسےجبالِ علم اور اساطینِ امّت ہوتے، ان سب میں ایک عام سا خادم، جس کی ظاہری وضع قطع کسی عام سے دیہاتی کی طرح ہوتی، جو اپنے حالات کی نامساعدت کی بناء پر درسِ نظامی کی تکمیل بھی نہ کرسکا، دن رات حضرت رائے پوریؒ کی خدمت میں جُٹا رہتا، اپنے شیخ پر جان چھڑکتا، ان کے اشاروں کو سمجھتا، ارشادات کو معمول بناتا، سلوک کے منازل طے کرتا، اپنے شیخ کے سامنے سر نگوں ہو کرخود کو مٹانے میں لگا رہتا؛ یہ کہاں ممکن تھا کہ یہ تمام باتیں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی نظر سے چھپی رہتی ، چناں چہ آپ کا مقام حضرت رائے پوریؒ کی نظر میں ممتازاور بلند تر ہوتا چلا گیا، حضرت رائے پوری ان کے ساتھ خصوصی معاملہ فرماتے، ان سے محبت کرتے اور ان کو اپنے قریب رکھتے، آپ مثنوی مولانا رومؒ کے بڑے دل دادہ تھے، فرائض ، ضروریات، ذکر و اذکار اور خدمت کے علاوہ تمام اوقات مثنوی کو اٹھائے پھرتے، کبھی خود اس کے اشعار دوہراتے کبھی کسی سے پڑھوا کر سنتے، بسا اوقات آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوجاتی، اور گرد وپیش کی بھی خبر نہ رہتی۔
رائے پور سے وطن اور نانکہ:
یہ 1929ء کے واقعات ہیں، آپ کو والدہ ماجدہ سے دور کئیں سال گذر گئے تھے، گھریلو حالات مالی اعتبار سے انتہائی کمزور تھے، نیز آپ کے علاوہ والدہ ماجدہ کے لیے کوئی ظاہری سہارا بھی نہ تھا، چناں چہ 1930ء کے اوائل میں آپ کو لینے کے لیےوالدہ ماجدہ نے گاؤں سے چودھری پھول محمدکو رائے پور حضرت رائے پوریؒ کی خدمت میں بھیجا، حضرت رائے پوریؒ نے والدہ ماجدہ کی طلب پر ان کی خدمت کے لیے آپ کو جانے اجازت مرحمت فرمادی، ایک سال کے قریب آپ اپنے گاؤں چھاپور کی مسجد میں بطورِ ملازمت امام رہے، اس کے بعد والدہ ماجدہ کے کہنے پر آپ نے گاؤں کی امامت ترک کردی، اور 1931ء میں بغرضِ امامت ”نانکہ“ تشریف لے آئے، اس کے بعد سے آپ یہیں کے ہوکر رہ گئے۔
میدانِ عمل میں:
رائے پور سے منتقل ہوجانے کے بعد آپ نے والدہ ماجدہ کی خدمت اور گھریلو ذمے داریوں کی طرف توجہ دی، لیکن حضرت رائے پوریؒ سے آپ کا تعلق بدستور قائم رہا، آپ وقتًا فوقتًا رائے پورجاتے، اور اپنے شیخ کی صحبت کے انوار وبرکات سے مستفیض ہوتے، آپ رائے پور کو کسی قیمت پر چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، لیکن حوادث اور ماحول نے آپ کو مجبور کیا، والدہ ماجدہ کی خدمت اور گھریلو ذمے داریوں کی وجہ سے آپ ملازمت سے وابستہ ضرور ہوگئے تھے، لیکن اس دوری نے شیخ کی محبت اور عقیدت میں کمی کے بجائے مزید شدّت پیدا کردی تھی ، گویا اس حجاب نے آوارۂ عشق کے لیے محبوب کے شوقِ دیدار کو اور بڑھادیا:
حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی
آپ فرصت کے منتظر رہتے تھے، جہاں وقت ملا پیدل ہی رائے پور کی طرف چل کھڑے ہوتے، شیخ کی محبت اور ان کے احترام کا یہ حال تھا، کہ رائے پور جیسے ہی نظر آتا پیروں سے جوتیاں نکال کر ہاتھ میں اٹھالیتے، رائے پور میں جوتوں سمیت داخل ہونا گوارہ نہ تھا، نانکہ سے رائے پور تقریبًا تیس کلومیڑ دور پڑتا ہے آپ ہمیشہ وہاں پیدل جاتے اور پیدل ہی وہاں سے نانکہ واپس ہوجاتے۔
لیے جاتی ہےکہیں ایک توقّع غالبؔ
جادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو
جامعہ فیض الرحیم کا قیام:
حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کی خدمت سے واپس ہونے کے بعد آپ کا مقصد اور مقصد کی سمت متعین ہوچکی تھی، آپ دین کی اشاعت، علمِ دین کی حفاظت، خلقِ خدا کی خدمت کو اپنا نصب العین بناچکے تھے، نانکہ منتقل ہوجانے کے بعد آپ نےسب پہلے تعلیم کی طرف توجہ کی، علاقے کی پسماندگی ،علم کی کمی ، جہالت کی کثرت اور بدعات کے اثرو رسوخ کو ختم کرنے کا ایک یہی طریقہ آپ کو سمجھ آیا کہ آپ یہاں کی نسلِ نو کو دینِ حق اور عقائدِ صحیحہ کی تعلیم سے روشناس کرادیں، اور دین کا صحیح مفہوم ان کے رگ وپے میں اس طرح پیوست کردیں کہ وہ شیطان کے زہر اور شیطنت کے اثر سے خود کی حفاظت کرسکیں، چناں چہ 1933ء میں آپ نے چھوٹے بچوں کی تعلیم وتربیت ، ان کو عقائدِ صحیحہ سکھانے، اور قرآنِ کریم کی ہدایت کو عام کرنے لیے اپنی مسجد کے برابر میں ایک چھوٹا سا مکتب قائم کیا، جس کا نام آپ نے ”مکتبِ اسلامی امدادی“ تجویز فرمایا، آپ کی تحریکِ تعلیم کامیاب ہوتی گئی، اور طلبہ کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی، یہاں تک مکتب کی چہار دیواری طلبہ کے لیے ناکافی ثابت ہوئی، جس کے بعد آپ نے اس مکتب کو ”نانکہ“ سے متصل شاہ راہِ عام کے کنارے ”گندیوڑہ“ کی سرحد پر منتقل فرمادیا، اور اپنے شیخ کے شیخ قطبِ عالم حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے نام کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس مکتب کانام ”مدرسہ فیض الرّحیم“ تجویز فرمایا، یہ حضرت رائے پوریؒ کی نظر کا فیضان تھا، یا ان کے مکتب کی کرامت کہ وہ شخص جو خود ایک اصطلاحی عالم نہیں تھاوہ عالِم گَر اور عالَم ساز بن گیا۔
وہ شاہوں کو گدا کردیں، گداؤں کو وہ شاہ کردیں
اشارہ ان کا کافی ہے گھٹانے اور بڑھانے میں
مقبولیت:
اسی عزلت اور گوشہ نشینی کے ساتھ آپ ”نانکہ گندیوڑہ “ میں تقریبًا 18 سال تک دینی، اصلاحی، تبلیغی، تعلیمی، تربیتی اور معاشرتی خدمات انجام دیتے رہے، آپ کا حلقۂ تعلیم بچوں اور جوانوں سے لے کر عمر رسیدہ لوگوں تک محیط رہتا، جو آپ سے اکتسابِ فیض کرتے رہتے، آپ کےحلقۂ اصلاح میں عمومًا غیرمسلم اور راہِ ہدایت سے بھٹکے ہوئے مسلمان شامل رہتے، جنہیں آپ دین کی دعوت دیتے، خدا اور رسول سے روشناس کراتے، کفر و شرک سے توبہ کراتے، کبائر سے دوری اختیار کرنے کی تلقین و تعلیم کرتے، آپ کی سیدھی سادی، اخلاص میں ڈوبی ہوئی موٹی موٹی باتیں ان کے دل و دماغ میں پیوست ہوکر ان کی کایا پلٹ دیتی، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کفروشرک، کبائر و فواحش اور منکرات و بدعات سے سچے پکے تائب ہوکر خدائے رحمٰن کی رحمت کے آغوش میں آجاتے،آپ کی طرف غیر مسلموں اور عوام الناس کا رجحان کچھ زیادہ رہتا، جس کی اصل وجہ آپ کی عنداللہ مقبولیت، آپ کی سادہ مزاجی، آپ کی دعاء کی اثر انگیزی، ان دعاؤں کے ذریعے عوام الناس کی مقصد برآری، آپ کی بے لوثی و بے غرضی، حبِّ دنیا، حبِّ مال اور حبِّ جاہ سے بیزاری، انابت الی اللہ، اطاعتِ رسول، اتباعِ سنّت رسول ، عشق مع اللہ ، عشق مع الرّسول، آپ کا فنا فی اللہ، فنا فی الرّسول ہونے کے ساتھ فنافی الشیخ ہوجانا،خلقِ خدا کی خدمت کا جذبۂ صادق اور راہِ سلوک و تصوف میں آپ کا مرتبۂ کمال تھا۔
خلافت:
یہ 12؍ فروی، 1950ء کا واقعہ ہے،آپ عمرِ مبارک کے 40؍ سال پورے کرچکے تھے، ہمیشہ کی طرح آج بھی آپ رائے پور کے لیے نکل پڑے، ادھر حضرت رائے پوریؒ کی مجلس لگی ہوئی تھی، حاضرینِ مجلس حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کو دیکھ کر بار محسوس کرتے کہ آپ کسی کا بڑی بے صبری اور بے تابی سے انتظار فرمارہے ہیں، حضرت رائے پوریؒ کی نگاہیں دروازے پر اٹکی ہوئی تھیں، آپ بار بار نظر اٹھاتے اور راستے کی طرف دیکھتے ، اتنے میں اچانک فرمانے لگےکہ :”دیکھو میرا باؤلا آرہا ہے“، حاضرین نے پیچھے مڑکر دیکھا تو معلوم ہواکہ حضرت نانکویؒ پیدل چلے آرہے ہیں،حضرت رائے پوریؒ آپ کو دیکھ انتہائی مسرور ہوئے، آپ مجلس میں آکر بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں حضرت رائے پوریؒ آپ سے مخاطِب ہوئے اور فرمایا:”عبدالستار! تم بھی لوگوں کو توبہ کرادیا کرو“ حضرت نانکویؒ نے عرض کیا : ”حضرت! میں اس قابل نہیں ہوں“؛ حضرت رائے پوریؒ نےجوابًا ارشاد فرمایا:”میں بھی تو کسی لائق نہیں ہوں“، پھر ارشاد فرمایا:”علاقہ دہردون میں جایا کرو!“ مجلس میں قاری عبدالرحمن صاحب روہالکوی موجود تھے، انہوں نے عرض کیا : حضرت یہ توجاتے ہیں، حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا: ”خوب جایا کرو!“۔
مردِ فقیر:
حضرت رائے پوریؒ کی طرف سے مُجازِ بیعت و ارشاد ہوجانے کے بعد، آپ کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئیں، خلوت نشینی، عبادات و ریاضات کی کثرت رہنے لگی، سحر خیزی، اور ذکر واذکار کی عادت تو بہت پہلے سے تھی، البتہ اجازتِ بیعت مل جانے کے بعد طبیعت میں حد سے زیادہ رقت پیدا ہوگئی، آپ اپنے شیخ و مرشد کے اوصاف میں رنگے ہوئے نظر آتے، ان کا تذکرہ کرتے یا سنتے تو آنکھیں ڈبڈبا جاتیں، نیز حضرت رائے پوریؒ کی طرف سے اجازت ملنے کی خبر اطراف کے لوگوں سے زیادہ دیر تک چھپی نہ رہ سکی، چناں چہ عوام کے ساتھ ساتھ خواص بھی بکثرت آپ کی طرف رجوع ہونے لگے، اس کے بعد آپ کے اصلاحی اور تبلیغی اسفار میں بھی بہت اضافہ ہوا، لوگ روز بروز آپ سے مربوط ہوتے چلے گئے۔
مجاہدہ اور اتبّاعِ شیخ:
اجازت ملنے سے پہلے بھی یہی حال تھا اور اجازت کے ملنے کے بعد تو بہت ہی زیادہ آپ پر اپنے شیخ کا رنگ غالب آگیا تھا، رفتار، گفتار، عادات، اطوار، رہن سہن، لباس و پوشاک یہاں تک کہ کردار میں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کا ہی رنگ روپ نظرآتا تھا، آپ کے شب و روز فرائض وواجبات ، سنن و مستحبات کی ادائیگی کےساتھ معمولات کی پابندی میں گذر جاتی، کوئی منٹ یا سیکنڈ عبادت یاکام سے خالی نہ چھوڑتے، بلکہ عمومی کاموں کو بھی عبادت میں تبدیل کرلیتے،اس کے علاوہ گم نامی اور خلوت گزینی کو پسند فرماتے، اپنی خانقاہ اور مدرسے کو چھوڑ کر کہیں بمشکل ہی جاتے، اِلّا یہ کہ تبلیغی ضرورت کے پیشِ نظر کوئی سفر درپیش ہوجائے، یا اپنے شیخ کی خدمت میں جانے کا موقعہ آجائے، آپ کا مجاہدہ اور ریاضت صرف عبادات یا ذکر واذکار تک ہی محد ود نہ تھا، بلکہ کلام، طعام اور منام کی تقلیل میں اپنے شیخ کے نقشِ قدم پر چلتے تھے،اللہ تعالی نے آپ کو زہد اور ریاضت میں اس قدر میں کمال عطا فرمادیا تھا کہ آپ کو دیکھ کر متقدمین کی یاد تازہ ہوجاتی تھی، اور یہ سب حضرت رائے پوریؒ کی تربیت اور ان کی صحبت کا فیضان تھا، حضرت رائے پوریؒ کے یہاں بھی دنیوی عیش و عشرت سے بچنے اور نفس کو پامال کرنے کا خصوصی اہتمام رہا کرتا تھا، ایک مرتبہ شہر مراد آباد میں کسی رئیس کے یہاں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ مہمان ہوئے، حضرت رائے پوری قدّس سرّہ کے ساتھ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ بھی تشریف رکھتےتھے، برتنوں کے تعلق سے مرادآباد کی صنعت کاری پہلے سے کافی مشہور رہی ہے، یہاں برتن گری اور برتنوں پر نقش کاری کا م بہت ہوتا ہے، الغرض کھانے کے وقت دسترخوان لگایا دیاگیا، اور انتہائی پرکشش اور دیدہ زیب برتنوں میں کھانا پروسا گیا، دستر خوان پر مختلف قسم کے عمدہ عمدہ کھانےموجود تھے، اورکھانے کے علاوہ برتنوں کی سجاوٹ اور نقش کاری حاضرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہی تھی،اسی دوران میزبان نےبطورِ خاص حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے لیے ایک مخصوص برتن میں کھانا پیش کیا، جو پورے دستر خوان پر کچھ الگ سا ہی محسوس ہوا، پورے دستر خوان پر اس برتن کی خوبصورتی سب سے بڑھ کر محسوس ہوتی تھی، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے جب وہ برتن دیکھا، تو از راہِ مزاح حضرت رائے پوریؒ سے فرمایا:”یہ ہیں پیری مریدی کے چونچلے!“، حضرت رائے پوریؒ نے بنا دیر کیے ہوئے وہ برتن حضرت مدنی قدّس سرّہٗ کی جانب سرکادیا، جب حضرت مدنیؒ نے اس کو چکھا تو معلوم ہوا کہ بنا مرچ مصالحے کی سادہ سبزی ہے، اور حضرت رائے پوریؒ تقریبًا تیس سالوں سے اسے ہی نوش فرماتے ہیں، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے کچھ نوش فرمانے کے بعد بنا نمک مرچ کا وہ سالن حضرت رائے پوریؒ کو واپس کرتے ہوئے فرمایا:”میاں! یہ پیری مریدی کے مجاہدے ہم سے نہ ہو سکیں گے“۔
یہی حال حضرت شاہ حافظ عبدالستار نانکویؒ کا تھا، اول زمانہ آپ کے لیے بہت عسرت کا گذرا، لیکن بعد میں جب فتوحات کی کثرت ہونے لگی آپ کے معمول اور مزاج میں ذرا فرق دیکھنے کو نہیں ملا،وہی سادی روٹی کھانے میں رہتی، اور سادہ سالباس بدن پر رہتا، باوجود دنیا داروں سے آپ کی کنارہ کشی کے آپ کے پاس اکثر اوقات آنے جانے والوں اور زیارت کرنے والوں کا ہجوم رہتا تھا، حتی الامکان ہدایا اور قیمتی تحفوں سے گریز کرتے، لوگوں ہدیے میں پیسے پیش کرتے آپ منع فرمادیتے، آپ کے منع کرنے بعد ایسا بھی ہوتا کہ لوگ آپ کی جوتیوں میں اور آپ کی واسکٹ کی جیبوں میں پیسے بھرجاتے، جو آپ بڑی بے نفسی کے ساتھ ضرورت مندوں میں تقسیم فرمادیتے۔
ابوذر غفاریؓ کے نقشِ قدم پر:
اکابر علمائے دیوبند کے بارے سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا یہ مقولہ بہت مشہور ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا: ”متقدمین کا قافلہ جارہا تھا، اس میں سے چند قدسی روحیں پیچھے رہ گئیں، اللہ رب العزت نے اس دور میں ان کو پیدا فرمادیا، تاکہ متاخریں کو متقدمین کے نمونے کا پتہ چل سکے“۔
یہ سچ ہے کہ اس زمانے میں ہندوستان میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو علمائے دیوبند کی شکل میں جو نعمت عطا فرمائی وہ ہر خطّے والوں کو نصیب نہ ہوسکی، سید بخاریؒ کے اس قول کا اصلی پس منظر یہی ہے، چناں چہ علمائے دیوبند میں سے ایک ا یک بزرگ عشقِ نبوی اور خدمتِ دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہے، ان کے قلوب عشقِ حقیقی سے معمور، ان کے شب وروز جستجوئے حق سے لب ریز، ان کے حرکات وسکنات سنتِ نبوی کا آئینہ، گفتار و کردار میں اصحابِ نبی جیسی خو بو بسی ہوئی ملتی ہے، کسی کے اوصاف بو بکرؓ و عمر ؓسے ملتے جلتے ہیں، تو کسی میں عثمانؓ و علیؓ کا عکس نظر آتا ہے، کسی کو معاذ بن جبلؓ کی طرح حلال و حرام کی پرکھ ہے، تو کوئی ابنِ مسعودؓ کی طرح فقاہت میں کمال رکھتا ہے، کوئی ابوہریرہؓ کی طرح علمِ حدیث سے شغف رکھتا ہے، اور بہت سے تو مجموعۂ کمالات جانے جاتے ہیں، جیسے اقبال کا یہ شعر صرف اِنہیں کےلیے ہو:
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلالِ حبشی رکھتے ہیں
(اقبال:1877ء-1938ء)
حضرت شاہ حافظ عبدالستار صاحب نانکویؒ اسی قافلے کے پیادوں میں سے ایک ہیں، آپ کا سلسلہ دو ، تین واسطوں کے بعد سیدالطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے مل جاتا ہے، جو اکابرِ دیوبند کی جماعت کے سرخیل ہیں، حضرت نانکوی قدّس سرّہٗ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے مجاز اور خلیفہ ہوتے ہیں، اور شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے جانشین ہوتے ہیں، جو حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے مجازِ بیعت و خلافت تھے، اسی نسبت کا فیض آپ کی ذات میں نمایاں تھا، عشقِ حقیقی کے ساتھ عزلت نشینی ، خلوت پسندی اور دولت و شہرت سے اجتناب آپ کے ممتاز اوصاف میں سے تھے، اصحابِ نبی میں آپ جندب بنِ جنادہ حضرت ابوذر غفاریؓ کا پرتَو نظر آتے تھے، چناں چہ حضرت ابوذر غفاریؓ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آپ نے کبھی بھی اپنی ذات کے لیے پیسے اور مال و دولت جمع نہیں کیا، اور ایسا کرنا بھی جائز نہ سمجھتے تھے، آپ کے نزدیک حج کے ارادے یا کسی اور دینی مصلحت سے تو پیسہ جمع کرنے کی گنجائش تھی، بصورتِ دیگر آپ تمام پیسے غریبوں یا کسی بھی کارِ خیر میں بے دریغ صرف کردیا کرتے تھے۔
تواضع :
آپ کے تمام اوصاف ایک طرف اور آپ کی تواضع ایک طرف، انکساری اور بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ تمام امور میں آپ کی تواضع نمایاں نظر آتی تھی، آپ نے جستجوئے حق میں خود کو فنا کیا ، یہاں تک کہ آپ مجذوبانہ کیفیات کے حامل تھے، آپ نے عشقِ نبی میں خود کو لگایا یہاں تک کہ سرتابقدم آپ سنتِ نبوی میں مستغرق نظر آتے تھے، اسی طرح جب اپنے شیخ حضرت رائے پوریؒ کے سامنے آپ نے خود کو پیش کیا تو خود کو مٹادیا، یہاں تک کہ آپ فنا فی الشیخ کےمرتبے کو پہنچ گئے، آپ کی ذات میں ہو بہو آپ کے شیخ حضرت رائے پوری کا رنگ و عکس نظر آتا تھا، بلکہ حضرت رائے پوریؒ کے مقرّب خلفاء کو ایسا ذکر کرتے ہوئے سناگیا کہ حضرت نانکویؒ کو دیکھ کر حضرت رائے پوریؒ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، غرضے کہ آپ کی تواضع اور انکساری آپ کا ایک نمایاں وصف تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا گو یا آپ اپنے نفس کو یکسر مٹا کر فنا فی اللہ ، فنا فی الرسول اور فنا فی الشیخ ہوچکے ہیں، حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم صاحب رائے پوریؒ جو خانقاہ رائے پور کے جانشین اور رائے پوری مسلک و طریق کے امین ہیں وہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے:میں اس وقت مدرسہ مظاہر علوم میں تدریسی خدمات انجام دیتا تھا، اسی زمانے میں نانکے کے قریب ”چولی“ نامی ایک بستی ہے، وہاں ایک ادارہ ہے جس کا نام مدرسہ جامع العلوم ہے، وہاں جلسے کی مناسبت سےمیری حاضری ہوئی ، حفاظِ کرام کی دستار بندی کے لیے وہاں حضر ت نانکویؒ کو بھی بطورِ مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا تھا، آپ وہاں تشریف لائے اور جلسے کی کار روائی پوری ہونے تک وہیں جلوہ افروز رہے، پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد جب ہم سب رخصت ہونے لگے تو مدرسے والوں نے ہم سب کے لیے رکشے کا نظم کیا، جیسے ہی رکشہ لایا گیا حضرت نانکویؒ آگے بڑھ کر جلدی سے رکشے پر سوار ہوگئے، اور رکشے کے پائیدان میں اُکڑوں بیٹھ گئے اور اپنی لاٹھی کھڑی کرلی، میں نے عرض کیا :حضرت ہم کہاں بیٹھیں گے؟ آپ نے فرمایا: اوپر سیٹ پر تشریف رکھیے۔ ہم نے بہت اصرار کیا ، یہاں تک کہ حاضرین نے بھی عرض کیا کہ حضرت آپ اوپر بیٹھ جائیں؛ تو آپ نے فرمایا نہیں اوپر تو علماء ہی بیٹھتے ہیں، میں اس لائق نہیں ہوں کہ علماء کے ہوتے ہوئے اوپر سیٹ پر بیٹھ جاؤں۔
اللہُ اکبر! یہ حضرت نانکویؒ کی بے نفسی اور کسرِ شان تھی، جس کی نظیر آج کل کے پیروں اور مقتداؤں میں ملنی انتہائی مشکل ہے، کہ خود رکشے کے پائیدان میں بیٹھ گئے اور اپنے ہم عصر علماء کے لیےسیٹ پر بیٹھنے کی جگہ چھوڑ دی، جو بظاہر عہدے ، عزت ، مقبولیت، شہرت اور وسائل کے اعتبار سے آپ سے بڑھ کر نہ تھے۔
شفقت:
بچوں پر بالخصوص طلبہ پر آپ بے انتہا شفقت فرماتے تھے، آپ کے مزاج میں قساوت اور دل میں سختی نام کو بھی نہ تھی، ایک مرتبہ کسی چھوٹے سےطالبِ علم کو خادم نے ڈانٹ دیا وہ بچارا جاکر ایک کونے میں بیٹھ گیا، آپ نے اس کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: وہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟اس طالبِ علم نے عرض کیا کہ: مجھے فلاں خادم نے ڈانٹا ہے، آپ نے اس خادم کو بلوایا اور اس کو تنبیہ کی اور فرمایا یہ اللہ کے رسولؐ کے مہمان ہیں ان کے ساتھ شفقت اور نرمی سے پیش آیا کرو!
طلبہ کے ساتھ آپ کا برتاؤ بالکل نرالا اور انوکھا ہوتا تھا، ایک مرید کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ آپ مغرب کی نماز کے بعد طلبہ کی نگرانی فرمارہے تھے، کہ اچانک بہت تیز بارش شروع ہوگئی، یہاں تک کہ طلبہ کا اپنے گھروں کو لوٹنا دشوار ہوگیا، چناں چہ آپ نے اسی موسلادھار میں بارش میں طلبہ کےلیے گھر گھر جاکر خودہی کھانا جمع کیا، اور عشاء کی نماز کے بعد سب کو اپنے ساتھ بٹھاکر کھانا کھلایا۔
دعا:
اللہ تعالی نے آپ کی دعا میں ایک خاص اثر رکھاتھا، اور یہ بات علاقے بھر میں مشہور تھی، چناں چہ دعا کی غرض سے روزانہ آپ کے پاس دور دراز سے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، لوگ اپنے مختلف مقاصد لے کر آتے آپ ان کے لیے دعا کردیتے اور ان کا کام بن جاتا ،آنے والوں میں مسلم اور غیر مسلم سبھی طرح کےلوگ رہتے، آپ اس سلسلے میں کسی کے ساتھ کوئی جدا گانہ رویہ بالکل نہ رکھتے تھے، بلکہ جو بھی ملاقات اور دعا کےلیے آجاتا امیر ہوتا یا غریب، مسلمان ہوتا یا غیر مسلم جب تک اس کی مراد جائز ہوتی آپ اس کے لیے دعا فرمادیتے، آپ کی دعا میں یہاں تک تاثیر تھی کہ ایک شخص ایک مرتبہ آپ کے پاس اپنی گائے کےلیے دعا کرانے آیا ، جو دودھ نہیں دیتی تھی، اور دودھ نہ دینے کی وجہ کوئی بیماری وغیرہ نہ تھی، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ اس کی گائے بن بیاہی تھی، اس نے حضرت سے دعا کرالی، اور حضرت نے اس سے بنا کچھ معلوم کیے اس کی گائے کے لیے دعا فرمادی، خدا کی قدرت کا عجیب کرشمہ کہ وہ گائے یوں ہی دودھ دینے لگی، اسی بنا پر آس پاس کے پڑوسی بھی اس کو دیکھنے آتے تھے، اس طرح کے اور بھی بے شمار واقعات ہیں، جو علاقے کے لوگ اکثر بیان کرتے رہتے ، اور بیان کرنے والے ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں لوگوں کی زبانی خود راقم نے ایسے واقعات سنے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ عز وجل نے آپ کی دعا میں کافی اثر رکھا تھا۔
خدمات:
آپ کی زیادہ تر خدمات عوام الناس کے تعلق سے اصلاحی امور پر مشتمل ہیں، جہاں آپ نے اپنے علاقے کی مروجہ بدعات اور رسومات کا خاتمہ کرنے کی بھر پور کوشش کی وہیں آپ کے دستِ مبارک پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا، اور کتنے ہی راہِ حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں نے شرک و بدعات اور معاصی سے توبہ کی، اور آیندہ کے لیے آپ کے دامن سے وابستہ ہوکر آپ سے سلوک کی تعلیم کی حاصل کرنے میں لگ گئے، یہ اپنی جگہ ایک بڑا کارنامہ ہے کہ آپ کے ذریعے اللہ عز وجل نے دہردون، اتراکھنڈ اور یوپی کے ایک بہت بڑے علاقے کو راہ ِ ہدایت سے روشناس کرایا، اور ان سبھوں نے آپ کی ذاتِ بابرکت سے دینی اور اخروی فیض حاصل کیا ، اس کے علاوہ آپ نے اپنے علاقے میں دینی تعلیم کو عام کرنے اور لوگوں کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت سے مدارس قائم کیے اور درجنوں سے زیادہ مساجد کی تعمیر کرائی، ان سب میں برسرِ فہرست جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کانام آتا ہے، جو آج بھی آپ کی نسبت اور آپ کے باطنی علوم کا امین ہے، اور روز افزوں ظاہری اور معنوی ترقی کی طرف گا مزن ہے، یہاں درجہ ہفتم تک دارالعلوم دیوبند کے نصاب کے مطابق عربی درجات کی تعلیم ہوتی ہے اس کے علاوہ شعبۂ پرائمری، شعبۂ تحفیظ القرآن، شعبۂ تجوید القرآن ، اور انٹر تک عصری علوم بھی پڑھے پڑھائے جاتے ہیں۔
مدرسہ فیض الرحیم کے علاوہ آپ نے علاقے میں اور بھی بہت سے مدارس قائم کیے، جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں:
- مدرسہ ریاض العلوم، بھوپہ ضلع مظفر نگر۔
- مدرسہ فخرالاسلام ، موسہ بلاس پور۔
- مدرسہ ہدایت العلوم، بھگوان پور، ضلع ہریدوار، اتراکھنڈ۔
- مدرسہ فیض العلوم اصغریہ، تیلی والا، ضلع ہریدوار، اتراکھنڈ۔
- مدرسہ امداد العلوم، کشن پورراج پور روڈ، ضلع ہریدوار، اتراکھنڈ۔
- مدرسہ انوارالعلوم، عجب پور کلاں ضلع دہردون۔
”کم یاب“ ہیں ہم:
آپ نے پانچ مرتبہ حج کے لیے سفر کیا:
پہلا سفر: 19؍اپریل 1962ء میں۔
دوسرا سفر:5؍فروری 1970ء۔
تیسرا سفر: 22؍ نومبر 1977ء۔
چوتھا سفر: 11؍ ستمبر1982ء میں۔
پانچواں سفر:8؍ جون 1990ءمیں۔
پانچواں سفر مبارک حج کے لیے آپ کا آخری سفر تھا، اور اس طرح اللہ تعالی نے آپ کی دلی تمنا پوری فرمادی، جس کا آپ نے کسی وقت زبان سے بھی اظہار کیا تھا، آپ چاہتے تھے کہ زندگی کی آخری ساعتیں دیارِ محبوب میں پوری ہوں، اور درِ نبی پر آخری سانسیں نکل کر وہیں زندگی کی شام ہوجائے، اس مرتبہ سفرِ حج کے لیے آپ غیر معمولی طور پر بے قرار اور بے تاب تھے، اور نہ جانے کب سے تھوڑے تھوڑے پیسے سفرِ حج کے لیے جمع کر رہےتھے، یہ اضطراری اور بے قراری آپ سے چھپی نہ رہ سکی۔
ایک روز آپ بہت بے چین و بے قرار تھے، کبھی آپ حجرے میں تشریف لے جاتے ، اورکبھی صحن میں، کبھی اندر تو کبھی باہر ، خدّام نے جب یہ حالت دیکھی تو بڑی تشویش ہوئی، آخر خدام نے پوچھ ہی لیا کہ: حضر ت کیا بات ہے؟ تو آپ نے فرمایا: آج اک خاص مہمان تشریف لارہے ہیں، تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی اور حضرت شیخ زکریا کاندھلویؒ کے خلیفۂ اَجلّ حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی قدس تشریف لائے، آپ انتہائی تپاک اور گرم جوشی کے ساتھ ملے، تھوڑی دیر بعدحضرت مفتی صاحبؒ نے آپ کو پانچ سو روپے ہدیۃً پیش کیے، آپ نے فورًا قبول فرمالیے ، سرپر رکھے، اور فرمایا بس اتنی ہی کمی باقی تھی جو پوری ہوگئی۔
8؍جون 1990ء =14؍ذی قعدہ 1410ھ: وہ آخری دن تھاجو آپ نے نانکے میں گذارا ، علاقہ دہردون اور قرب و مضافات کے بے شمار انسان جو حضرت سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے تھے جوق در جوق آپ سے ملاقات کے لیے حاضر ہور ہے تھے، معتقدین اور مریدین میں سے جسے بھی آپ کے سفرِ حج کی اطلاع ملی وہ سلامِ وداع کے لیے حاضر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔
اییرپورٹ پر پہنچتے ہی آپ کی طبیعت ناساز ہونے لگی،کسی نہ کسی طرح آپ نے حج کے ارکان اداکیے، اس دوران کئیں بار آپ کی طبیعت ناساز ہوئی اور افاقہ ہوا، بالآخر جمعرات 13؍ ذی الحجہ 1410ھ =6؍جولائی 1990ء کو آپ کی طبیعت بہت زیادہ خرا ب ہوگئی ، سانس لینے میں کافی دقت تھی؛ چناں چہ آپ کو مکہ مکرمہ کے کسی ہسپتال میں داخل کرادیا گیا، جہاں تین روزہ علاج کے بعد آپ جاں بر نہ ہوسکے، اور بالآخر 16 ؍ ذی الحجہ 1410ھ =9؍ جولائی 1990ء کو آپ نے اپنی جان جاں آفریں کو سپرد کردی۔
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں ”کم یاب “ ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر، اے ہم نَفَسو! وہ خواب ہیں ہم
(علی محمد شاد عظیم آبادی: 1846-1927ء)
آپ کا رنگ سانولا تھا، ہلکے جسم و جثے کے ساتھ ہلکا ساقد، بھری ہوئی داڑھی، کشادہ جبیں،گول چہرہ، سادہ مزاج، ناز ونعمت سے ناآشنا طبیعت، مسکراتا ہوا چہرہ، اور بدن پر معمولی کپڑے ، ہاتھ میں عصا اور دوشالے کی جگہ کندھے پر کوئی معمولی سا کپڑا ڈالتے تھے۔
آپ کے صاحب زادہ محترم حافظ جمیل احمد صاحب اور دیگر خدّام نے آپ کو غسل دیا، اور آپ کے احرام کے کپڑوں میں ہی آپ کی تکفین ہوئی، اس کے بعد آپ کا جنازہ مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں لایا گیا، نمازِ جنازہ بعد نمازِ عصر حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب صاحب زادہ محترم حضرت شیخ محمد زکریا کاندھلویؒ نے پڑھائی، نمازِ مغرب سے قبل آپ کے جسدِ مبارک کو بیت اللہ میں لایا گیا،جہاں مغرب کی نماز کے بعد امامِ حرم کی اقتداء میں لوگوں نے دوبارہ آپ کی نمازِ جنازہ اد ا کی ، آپ کے سانحۂ ارتحال کی خبر پاک و ہند میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، ہندو پاک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک جمِّ غفیر آپ کے جنازے میں شریک رہا، یہاں تک کہ آپ کو جنت المعلی میں سپردِ خاک کردیا گیا، جہاں آپ تاقیامت آسودۂ خواب ہوگئے۔
حافظ جمیل احمد صاحب نانکوی:
آپ حضرت شاہ حافظ عبدالستار صاحب نانکویؒ کے اکلوتے صاحب زادے، جانشین اور جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کے موجودہ مہتمم ہیں، آپ کا تقرر جامعہ ستاریہ فیض الرحیم میں 1982ءمیں عمل میں آیا، 1990ءمیں آپ جامعہ کے مسندِ اہتمام پر فائز ہوئے، آپ کا دورِ اہتما م 33 سال کے طویل عرصے کو محیط ہے، حضرت شاہ حافظ عبدالستارؒ کے زمانے تک جامعہ میں صرف حفظ و ناظرہ اور پرائمری کی تعلیم ہوتی تھی، آپ کے ہی دورِ اہتمام میں شعبۂ فارسی ،شعبۂ تجوید اور درجہ ہفتم تک شعبۂ عربی کا قیام عمل میں آیا، نیز انٹر تک عصری علوم بھی جامعہ میں داخل کیے گئے، جس کے لیے مستقل طور پر جامعہ میں ”ایم آئی ایف انٹر کالج“ قائم کیا گیا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کا سایۂ مبارک ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے، اور آپ کی سرپرستی اور نگرانی میں جامعہ ترقی کے مراحل طے کرتا رہے۔ آمین اللہم آمین!
از قلم: مفتی محمد انس قاسمی سہارنپوری
استاذ فقہ و تفسیر جامعہ ستاریہ فیض الرحیم نانکہ گندیوڑہ، سہارنپور،یوپی
09؍ صفر المظفر1445ھ=27؍اگست2023ء
