نانکہ گندیوڑہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا 247662

حضرت مولانا ظہور احمد قاسمی (حیات اور کارنامے)،از حضرت مولانا محمد گلفام مظاہری

 

 

 

حضرت مولانا محمد ظہور قاسمی

(سابق صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور یوپی)

  

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں،  دنیا کے تمام افراد خواہ اہلِ دانش ہوں یاں عوام ان کے اپنے خیالات ہوتے ہیں، اور ہر ایک چیز کو لے کر ہر کسی کا نقطۂ  نظرمختلف ہوتا ہے،  گویا تمام موجودات انسانی اختلاف سے باہر نہیں، لیکن موت کا وقوع ایک ایسی مشہود حقیقت اور ایسا امرِ مسلم ہے جس   کے وقوع سے آج تک کسی بادشاہ کو نہ چپراسی کو ، کسی غنی کو نہ فقیر کو، کسی عامی کو نہ عالم کو، انکار کی جرات نہ ہوئی، اور نہ معلوم کب سے اللہ عزوجل کا حکمت والا یہ مستحکم نظام جاری ہے، لوگ آتے ہیں، چلے جاتے ہیں،   البتہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کے جانے سے خلا اور خلش محسوس ہوتی ہے، جن کی کمی ایامِ تعزیت کے بعد بھی کَھلتی ہے، دل ان کے بغیر کڑھن محسوس کرتا ہے، اوران کے کارنامے اور خدمات ان کے جانے کے بعد بھی ان کی یاد دلاتے رہتے ہیں،  حضرت مولانا محمد ظہور قاسمی انہیں افراد میں سے  ایک تھے۔

پیدائش اور خاندان: سہارنپور کی تاریخ  اپنے اوراق میں نامور اور باکمال شخصیات کی ایک لمبی فہرست رکھتی ہے، سہارنپور شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر رائے پور کے نزدیک ”عالم پور، عماد پور“ نامی ایک بستی پڑتی ہے،مولانا محمد ظہور قاسمی 19 ؍مارچ 1938ء کو اسی گاؤں عماد پور میں پیدا ہوئے،  خاندان کے اعتبار سے آپ مسلم گوجر برادری سے تعلق رکھتے تھے ، آپ کے آباؤ اجداد جالندھر کے علاقے میں رہا کرتے تھے ،پھر وہاں سے کچھ لوگ  نقلِ مکانی کرکے” گلاب گڑھ خضرآباد“ آگئے، آگے چل کر ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرلیا، بعد ازاں نومسلموں کی وہ جماعت ہجرت کرکے  ”رائے پور“ کے نزدیک ”عالم پور، عماد پور“ نامی  بستی میں آبسی ، ان اسلام قبول کرنے والوں  میں ”عماد الدین“ نامی ایک بزرگ تھے، جو سب سے پہلے اس مقام پر آباد ہوئے ، بعد میں پوری بستی انہیں کے نام سے مشہور ہوگئی۔

والدین: آپ کے والدِ محترم کا نام  جناب ”احمد حسن “ تھا، نہایت شریف الطبع اور نیک آدمی تھے، علاقے میں ان کی سخاوت کا چرچہ تھا، ہر وارد و صادر کو نوازتے، سائلین کی حاجت روائی،غریبوں کی خبر گیری،اور فقراء و مساکین کا بے حد خیال رکھتے تھے، اپنی کریمانہ طبیعت  اورسخاوت کی وجہ سے علاقے میں ”راجہ“ کے نام سے مشہور ہوگئے تھے۔

آپ  کی والدہ محترمہ بھی نہایت نیک اور معزز خاندان  سے تعلق رکھتی تھی، فرائض کی پابندی، تلاوتِ قرآن اور پردے کا ان کے یہاں بہت اہتمام رہتا تھا، وہ بچوں کی تعلیم و تربیت سے کبھی غافل نہ رہتیں، ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ عشاء کے بعد بچوں کو لے کر بیٹھ جاتیں، اور ان کو نماز کا طریقہ طہارت اور روز مرّہ کے ضروری مسائل سکھاتیں، اور عقائد کی تعلیم دیتیں۔

اسی نیک خاتوں کی دعاؤں اور تربیت  کا اثر تھا کہ مولانا اپنی زندگی میں تاحیات اپنے عقائد اور نظریات کو لے کر متصلّب رہے، اور حوادثِ زمانہ  کی تیز و تند آندھیاں آپ کے عزمِ سفر کو  کبھی متزلزل نہ کرسکیں، آپ دین کے سلسلے میں قطعی غیر متساہل،  اور رواداری کو  بالکل برداشت  نہیں کرسکتے تھے، والدہ  محترمہ کی اس  نیک مشفقانہ اور مخلصانہ گود نے آپ کو  ایک مجاہد صفت انسان بنادیا تھا، مولانا خود بیان کرتے ہیں: کہ ایک مرتبہ والدہ محترمہ نے مجھے بہت خوبصورت کپڑے پہنائے، کم سنی کا زمانہ تھا، اس کے بعد بغرضِ تربیت مجھ سے پوچھ بیٹھی: ”بیٹا! یہ کپڑے آپ کو کس نے دیے؟“ میں نے معصومیت کے ساتھ فورًا جواب دیا،:”امّی جان! آپ نے ہی تو یہ کپڑے  مجھے دیے ہیں“،  انہوں نے فورًا ایک تھپڑ میرے گال پر مارا اور کہا: یہ کپڑے اللہ نے عطاکیے،  دنیا میں کوئی چیز اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ملتی۔

تعلیم کی ابتداء:ایسے نورانی اور دینی ماحول میں مولانا کی پرورش ہوتی رہی،  اس کے کچھ عرصے بعد آپ کی والدہ نے آپ کو گاؤں کے مکتب ”مدرسہ تعلیم القرآن“ میں داخل کرادیا، جہاں آپ نے نورانی قاعدہ پڑھا، اس کے بعد ناظرہ اور قرآن کریم کے آٹھ پارے  آپ نے وہی حفظ کیے۔

تکمیل حفظ اور عربی تعلیم:”جامعہ اسلامیہ“ ریڑھی تاجپورہ علاقے کا ایک مشہور اور قدیم ادارہ ہے، آپ کے ماموں جناب قاری عبداللہ صاحب وہاں مدرس تھے، جب آپ کچھ بڑے ہوئے تو والدین نے آپ کو ماموں جان کے سرپرستی میں  بھیج دیا، چنانچہ 4؍اگست 1949ء میں آپ نے ”جامعہ اسلامیہ“ میں داخلہ لیا، وہیں آپ نے حفظِ کلام اللہ کی تکمیل کی،  اور 31؍جولائی 1956ء تک تقریبًا پانچ  ،چھ سال آپ وہیں اپنے ماموں کی سرپرستی میں  رہے۔

فراغت:1377ھ مطابق  1958 ءمیں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا، دارالعلوم کے ریکارڈ کے مطابق  داخلے کے وقت آپ کی عمر 18 سال تھی ، آپ تقریبًا پانچ سالوں تک مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند کے آغوش میں اپنی علمی پیاس بجھاتے رہے،   آپ نے بخاری شریف حضرت مولانا سید فخر الدین صاحب سے پڑھی، جب کہ ترمذی شریف حضرت مولانا ابراہیم صاحب اور حضرت مولانا بشیر صاحب سے ، اور ابوداود حضرت مولانا سید فخرالحسن صاحب سے  پڑھی۔ ان کے علاوہ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا  اسلام الحق صاحب اور حضرت مولا نا عبدالاحد صاحب کا نام آتا ہے؛ ان اساطینِ امت اور اکابر کے سے علمی سیرابی حاصل کرنے کے بعد 1382ھ مطابق 1963ء  آپ نے مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔

خدمات : آپ کی خدمات کی فہرست خاصی طویل ہے،  آپ کی شخصیت علم وفضل کا ایک بے بہا خزانہ تھی، آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نہ صرف علم ِ دین کی ترویج و اشاعت اور درس و تدریس میں صرف کیا ؛بلکہ آپ نے عوامی خدمات اور رفاہی کاموں میں بھی بھر پور حصہ لیا ،  اس طرح سماجی سطح  پر آپ کی جدوجہد  او رکوششیں آپ کی زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن کر رہ گئی، چنانچہ سماجی سطح پر دین و ملت کے خدمت کے لیے آپ نے جمیعت علماء ہند   کو چنا اور ایک طویل عرصے تک آپ جمعیت علماء ِ ضلع سہارنپور کے صدر رہے،   اور اس طرح عوام تک آپ کا فیض پہنچتا رہا،اسی طریقے سے  آپ نےبرِّ صغیر  کی مشہور دینی درس گاہ مظاہر علوم  (وقف) میں تدریسی اور علمی خدمات انجام دیں،  حتی کہ  آخری وقت تک  بھی آپ جمعیۃ علماءِ ضلع سہارنپور ، اور مظاہر  علوم وقف سے منسلک رہے۔

اوصاف: تقویٰ و پرہیزگاری آپ کی زندگی کا ایک نمایاں وصف تھا،آپ نے ہمیشہ اپنی زندگی کو دین کے اصولوں کے مطابق گزارا، معاصی سے کلی اجتناب، فرائض و و اجبات اہتمام اور سنن و نوافل کا اہتمام آپ کی سرشت میں داخل تھا۔

 اسی طرح آپ نے اپنی زندگی خدمتِ خلق کے وقف کردی تھی، آپ  ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرتے، ان کی مشکلات کا حل کرتے ، جھگڑے سلجھاتے، اگر کہیں بھی آپ کو  اپنی ضرورت محسوس ہوتی ، تو آپ از خود وہاں پہنچ جاتے ، آپ دین وملت کے لیےکوئی بھی قربانی دینے سے نہیں جھجکتے ۔

 اللہ عز وجل نے آپ کو قیادت کی   صلاحیت سے بھرپور نوازا تھا، ایسی مثال دیکھنے میں کم ہی ملتی ہے، چنانچہ آپ نے جمعیت علماءِ سہارنپور کی صدارت کی ذمہ داری بخوبی نبھائی، آپ نے  نہ صرف علماء کے حلقے میں بلکہ عوامی سطح پر بھی قیادت کا کردار ادا کیا۔

آپ عوام کے ساتھ بہت قریبی رابطہ  رکھتے تھے،آپ نے  ہمیشہ عوام کی مشکلات کو سمجھا اور ان کے حل کے لیے کوششیں کیں، آپ کی عوامی رابطہ کاری نے  آپ کو لوگوں کے دلوں میں ایک خاص  مقام عطا کیا تھا۔

اس کے علاوہ آپ ایک مجاہد صفت صفت انسان تھے،   آپ حق گوئی سے قطعا نہ گھبراتے تھے،  مولانا محمد سالم جامعی مدیر ہفت روزہ، الجمعیۃ دہلی نے آپ کے متعلق  اپنا ایک چشم دید واقعہ لکھا ہےجس سے آپ کی ایمانی جرات اور بیباکی کا اندازہ ہوسکتا ہے، مولانا لکھتے ہیں:

”  ۱۹۷۵ء  کی ایمر جنسی کا تاریک دور اہالیانِ ہند کے سروں پر مسلط تھا، اقتدار کے لاڈلے صاحبزادے ”مسٹر سنجے گاندھی “کا تحدیدِ آبادی کے نام پر جبری نس بندی کا مشن جاری تھا، ہر ضلع کے کلکٹر کو ایک متعینہ اعداد وشمار کے مطابق اپنے ضلع میں نس بندی کے اعداد و شمار مہیا کرانے تھے، اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کلکٹر صاحب گاؤں گاؤں مارے مارے پھر رہے تھے، ضلع سہارنپور کے اس وقت کے کلکٹر صاحب بھی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ ضلع کے قابل ذکر دیہات کے دورہ پر تھے، اس سلسلہ میں انھوں نے پہلے اپنے آفس میں ایک میٹنگ بلائی جس میں ضلع کے تمام سیاسی ، سماجی اور قومی وملی رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی ؛ جمعیتہ علماء ضلع سہارنپور کی طرف سے جناب ظل الرحمن ہاشمی ، مولانا ظہور احمد قاسمی اور راقم الحروف کو ایک وفد کی شکل میں اس میٹنگ میں شرکت کا پروانہ ملا ، وفد وقت مقررہ پر کلکٹریٹ پہنچا، میٹنگ میں شہر ضلع کے بڑے بڑے لوگ موجود تھے، کلکٹر صاحب نے میٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے پہلے ایمر جنسی کی مفروضہ برکات پر روشنی ڈالی اور پھر نس بندی کی ضرورت، اہمیت اور مفروضہ افادیت پر زمین آسمان کے قلابے ملائے ، اس ضمن میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ: ”نس بندی کے ذریعہ تحدید آبادی کے مشن کی ہر مذہب میں اجازت ہے اور کسی مذہبی کتاب میں اس کی مخالفت نہیں کی گئی ہے“۔ کلکٹر صاحب ابھی اپنا جملہ بھی پورا نہ کر پائے تھے کہ مولانا ظہور احمد قاسمی کے اندر کا عزم و حوصلہ سے معمور انسان پھڑک کر باہر نکلا اور بر سر میٹنگ نہایت بے باکی سے بولا: ” کلکٹر صاحب ! آپ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، جو آپ کے منصب کے لیے مناسب نہیں ہے، دنیا کے کسی بھی مذہب نے اس ظالمانہ کام کی اجازت نہیں دی ہے“۔

یہ ایک اکیلی آواز تھی جس نے پورے ایوان میں سناٹا پیدا کردیا تھا، کلکٹر صاحب نے مزید کچھ کہنا چاہامگر مولانا ظہور احمد صاحب قاسمی خاموش نہیں ہوئے اور برابر یہ مطالبہ کرتے رہے کہ پہلے کلکٹر صاحب اپنے یہ الفاظ واپس لیں، اس کے بعد آگے بولیں، اسی دوران کلکٹر صاحب نے میٹنگ کی برخاستگی کا اعلان کر دیا، اب ہر شخص خائف تھا کہ نہ جانے مولانا ظہور احمد کے خلاف کے خلاف کیا کارروائی ہوگی، اس لیے کہ ایمر جنسی کے حکومت کے کسی موقف کی مخالفت کا صاف مطلب  جیل کی کال کوٹھری تھا؛ مگر اس وقت دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مولانا کے چہرے پر خوف و ہراس تو دور کی بات تھی ان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ صاف نظر آ رہی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ کلکٹر صاحب نے ان کی اس حوصلہ مندانہ ’گستاخی ‘کو نظر انداز کر دیا تھا، بلکہ بعد کے ان کے خلاف پولیس کے ظلم و جبر نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ بروقت کارروائی نہ کرنا کلکٹر صاحب کی مصلحت  پر مبنی تھا۔“

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

الغرض آپ کی زندگی دین و ملت کی خدمت و ترویج کے لیے وقف رہی، اور آپ نے بے جھجک مصائب وآلام کی پرواہ کیے  بغیرخودکو حتی الامکان   صف اول میں رکھا، آپ نے ہمیشہ سچائی، انصاف، اور احسان کی تعلیم دی، آپ صبر و استقامت کے پیکر تھے، آپ نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کبھی ہار نہیں مانی اور دین کی خدمت میں اپنی کوششیں تادم ِ زیست  جاری رکھیں۔

حضرت مولانا ظہور قاسمی کی زندگی ایسے اوصاف کی عکاسی کرتی ہے جو انہیں ایک عظیم عالمِ دین اور خدمت گزار انسان بناتے ہیں، ان کے اوصاف نے نہ صرف ان کی شخصیت کو نکھارا بلکہ ان کی خدمات نے قوم و ملت کے لیے ایک مثال قائم کی، آپ  ایک معتمد عالم دین تھے،  عام علماء کے برعکس آپ کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت رہی،آپ نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت کے لیے وقف کردی تھی، جہاں آپ ایک طرف عوام سے مربوط تھے، وہیں دوسری طرف علماء کے حلقے میں بھی آپ کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، آپ نے خواص کو تدریسی خدمات کے ذریعے سیراب کیا وہیں دوسری طرف آپ نے جمعیت علماءِ سہارنپور کی صدارت کی ذمے داری بھی مکمل طریقے سے نبھائی، اور عوامی سطح پر قوم و ملت کے لیے اپنی خدمات پیش کیں، بالیقین آپ  ایک مجاہد صفت انسان تھے۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مرض الموت اور وفات: کئیں سال سے آپ کی طبیعت مستقل ناساز چل رہی تھی، البتہ 15؍ اگست 2023ء کو آپ اپنے مدرسے  ”بستان العلوم“ میں پندرہ اگست کی تقریب کی مناسبت  تشریف لائے،  پروگرام سے  فراغت کے بعد آپ نے دعا کرائی، دعاء کے معًا بعد آپ کی طبیعت ایک دم خراب ہوگئی، چنانچہ  آپ کو فورًا ہسپتال منتقل کردیا گیا، تقریبًا ایک  ماہ بسترِ علالت پر رہنے کے بعد  7؍ ستمبر 2023ء  بروز جمعرات  بوقتِ  صبح آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے،  آپ کی نماز جنازہ  دارالعلوم دیوبند کے مؤقر استاذ حضرت مولانا محمد سلمان منصور پوری   نے پڑھائی ، ہزاروں لوگ نمازِ جنازہ میں شریک تھے، اور اس طرح  ہزاروں معتقدین  کی موجودگی میں نمناک آنکھوں کے ساتھ آپ کے جسدِ خاکی کو سپردِ خاک کردیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

محمد گلفام مظاہری

30؍10؍2024ء  ، بروز بدھ