نانکہ گندیوڑہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا 247662

جامعہ ستاریہ فیض الرحیم

JAMIA SATTARIA  
 RAHEEM

سرپرستان اور قیادت

جامعہ کی سرپرستی صوفی زماں حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب اور بقیة السلف حضرت مولانا محمد افتخار الحسن صاحب کاندھلوی کر رہے ہیں۔ ان کے زیر قیادت جامعہ نے اسلامی علوم میں ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں اور طلبہ کی بہترین تربیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

تعلیمی ترقی اور کامیابیاں

جامعہ ستاریہ فیض الرحیم نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ہزاروں طلبہ کو اسلامی علوم میں تعلیم دی ہے۔ کل طلباء کی تعداد 2230 ہے جبکہ معاون طلباء 613 ہیں۔ یہ جامعہ شعبہ عربی، حفظ و تجوید کے ساتھ ساتھ پرائمری تعلیم بھی فراہم کرتا ہے۔

علم کی روشنی

لم انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ جامعہ ستاریہ فیض الرحیم میں ہم اسلامی علوم کے ذریعے دلوں کو منور کرتے ہیں۔

اعداد و شمار

جامعہ ستاریہ ہر سال بے شمار طلباء کو حفظ قرآن، تجوید اور عصری علوم کی تعلیم مکمل کراتا ہے۔ پچھلے سال

طلباء 78 فارغین عربی فارسی 1
طلباء 28 حفظ فارغین 2
طلباء 394 ایم آئی ایف انٹر کالج فارغین 3
2230 کل طلباء:  
15 شعبہ عربی حفظ و تجوید مدرسین  
23 شعبہ پرائمری مدرسین  
19 دفتر عملہ  
     

تعلیمی شعبہ جات

جامعہ میں مختلف تعلیمی شعبے موجود ہیں جو دینی اور عصری علوم کی تعلیم دیتے ہیں

شعبہ تحفیظ القرآن:حفظ قرآن کی تربیت نو درجات میں دی جاتی ہے۔

شعبہ تجوید: قرآن کی صحیح تلاوت کے اصول اور تجوید کی تعلیم۔

شعبہ علوم عصریہ جدید تعلیمات کے ساتھ دینیات کی تربیت

شعبہ نشر و اشاعت: اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے تحریری مواد کی تیاری۔

  • شعبہ صنعت وحرفت: الیکٹریشن اور کمپیوٹر کی عملی تربیت۔

ہمارے فرائض

امعہ ستاریہ فیض الرحیم کی کہانی اسلامی علوم کے فروغ کی ایک ایسی داستان ہے جو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف ہے۔ یہ ادارہ 15 شوال 1352 ہجری، بمطابق 12 فروری 1933 عیسوی کو حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری (رحمۃ اللہ علیہ) کے ہاتھوں قائم ہوا، جن کا خواب ایک ایسے تعلیمی ادارے کا قیام تھا جہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی مکمل تفہیم فراہم کی جا سکے۔ حضرت شیخ الحاج حافظ عبد الستار صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)، جن کا مدفن جنت المعلیٰ، مکہ مکرمہ میں ہے، نے اس جامعہ کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور اپنی زندگی اس کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کا مقصد اسلامی علوم کو فروغ دینا اور قرآن و سنت کی صحیح تعلیم کو عام کرنا ہے۔ یہاں پر طلباء کو نہ صرف کتابی علم دیا جاتا ہے بلکہ ان کی روحانی، اخلاقی اور سماجی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلباء اسلامی معاشرت کی بہترین مثال بنیں، ان کے اندر دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات میں بھی سمجھ بوجھ ہو، اور وہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار بخوبی ادا کر سکیں۔ہمارا ادارہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ علم کا مقصد صرف کتابی معلومات کا حصول نہیں بلکہ اس علم کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ اسی لیے ہم نے اپنے نصاب میں دینی و دنیاوی علوم کو یکجا کیا ہے تاکہ طلباء کو ایک متوازن تعلیم دی جا سکے جو انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بنا سکے۔ اس جامعہ میں ہر طالب علم کو قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اسلام کے سچے سپاہی بن سکیں۔جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کی یہ کہانی صرف ایک تعلیمی ادارے کی نہیں بلکہ ایک ایسے مشن کی ہے جو نسل در نسل دین اسلام کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ ہم ہمیشہ سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک بہتر معاشرہ وہی ہے جہاں تعلیم و تربیت دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔ ہمارے اساتذہ نہ صرف اپنے طلباء کو بہترین تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کے دلوں میں دینِ اسلام کی محبت اور خدمت خلق کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔اس جامعہ کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ طلباء میں اجتماعی سوچ اور سماجی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے جامعہ کے اندر مختلف رفاہی کاموں کا آغاز کیا ہے، جس میں خون کے عطیات، فلاحی کام اور دیگر سماجی خدمات شامل ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے طلباء نہ صرف علمی میدان میں کامیاب ہوں بلکہ انسانی خدمت میں بھی اپنا حصہ ڈالیں۔حضرت شیخ الحاج حافظ عبد الستار صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) نے ہمیشہ اپنے طلباء کو یہ تعلیم دی کہ علم کا مقصد صرف خود کی ترقی نہیں بلکہ معاشرتی بہتری کے لیے بھی کام کرنا ہے۔ اسی فلسفے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے اپنے تعلیمی نظام میں ایسی تربیت کو شامل کیا ہے جو طلباء کو ایک کامیاب انسان، بہترین مسلمان، اور خدمتِ خلق کے لیے پیش پیش رہنے والا فرد بنائے۔جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کی یہ کہانی ایک ایسے سفر کی داستان ہے جو علم کی روشنی پھیلانے اور دلوں کو نورِ ہدایت سے منور کرنے کے لیے شروع ہوا تھا اور آج بھی اسی مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم اس سفر کو جاری رکھتے ہوئے نسل در نسل اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمارا یہ یقین ہے کہ علم کی شمع روشن کرنے سے نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ منور ہوتا ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔ہماری یہ داستان ایک ایسے عزم کی کہانی ہے جو اس یقین پر مبنی ہے کہ علم و عمل کی روشنی سے دنیا کو منور کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کو صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک مشن، ایک مقصد اور ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشن میں کامیاب فرمائے اور ہمیں مزید ترقی کی راہوں پر گامزن کرے تاکہ ہم اپنے مقصد کو حاصل کر سکیں اور دینِ اسلام کی خدمت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ہمیں فخر ہے کہ ہم حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری (رحمۃ اللہ علیہ) اور حضرت شیخ الحاج حافظ عبد الستار صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اپنے طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان کی تعلیم و تربیت کو بہتر بنانے اور ان کے اندر اسلامی معاشرتی اقدر کو پروان چڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں ایک بہترین مسلمان اور کامیاب انسان بن سکیں۔جامعہ ستاریہ فیض الرحیم کا یہ سفر جاری ہے، اور ہم اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ کوششیں رنگ لائیں گی اور ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گے جہاں علم، اخلاق اور خدمت خلق کی اہمیت کو سمجھا جائے اور ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس سفر کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے اور ہمیں اپنی راہ میں مزید استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔

حضرت مولانا عتیق الرحمن صاحب نانکوی

ناظم جامعہ ستاریہ فیض الرحیم نانکہ

فون نمبر:9759262442